فہم قرآن کے بعض اصول

قرآن مجید کے سلسلے میں امت کے اندر دو تصورات پائے جاتے ہیں۔ پہلا تصور یہ ہے کہ وہ ایک کتاب تلاوت ہے۔ دوسرا تصور یہ ہے کہ وہ ایک کتاب ہدایت ہے۔پہلے تصور سے تلاوت قرآن کا مقصد حصول برکت ہے جب کہ دوسرے تصور کے ساتھ قرآن کا مطالعہ برائے حرکت ہوتا ہے۔ انسان کتاب اللہ کی تلاوت محض ثواب جمع کرنے کے لیے نہیں پڑھتا بلکہ نفس اور زمین میں انقلاب برپا کرنے کے لیے پڑھتا ہے۔ کتاب تلاوت کی حیثیت پر یقین رکھنے والوں کے لیے فہم کی راہ کھلتی ہی نہیں۔ ہاں جو اس کتاب کے ہدایت نامہ ہونے پر یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اس کافہم حاصل کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ کی نازل کردہ اس کتاب مقدس کا اعجاز یہ ہے کہ ہر زمانے میں ہر سطح کے افراد کے لیے زندگی کے ہر مسئلے میں مشکلات کے بیچ راہ کھولتی ہے اور مسائل کے ہجوم میں زندگی کی شاہراہ کو منورکردیتی ہے۔ لہٰذا ہر خاص و عام کے لیے اس میں غور و فکر کرنا اور فی زمانہ اس کے مفاہیم کو سمجھنا از حد ضروری ہے۔ فہم قرآن کے لیے جن علوم کی ضرورت ہے وہ بدقسمتی سے دو خانوں میں تقسیم شدہ ہے۔ زبان وادب، فصاحت و بلاغت، نحوی ترکیب اور لسانی علوم کی پیچیدہ بحثوں سے واقفیت ایک طرف فہم قرآن کی اساس ہے، تو دوسری طرف کائنات ، حیات، انسان، سماج کے بارے میں انسانی علم نے آج جہاں تک ترقی کی ہے ان سے آگہی کے بغیر قرآن کے بیشتر مضامین اپنی رفعت اور وسعت کے ساتھ ہم پر نہیں کھلتے۔ دو قسم کے علوم حاصل کرنے کے لیے دو جداگانہ تعلیم گاہوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس مضمون کے مخاطب دراصل دوسری قسم کی تعلیم گاہوں سے فارغ نوجوان ہیں۔

قرآن سمجھنے کی دو سطح:

قرآن سمجھنے کی کوشش میں پہلی سطح پر کچھ زیادہ توجہ ہوتی ہے، جب کہ دوسری سطح تک نگاہ عموماً پہنچ نہیں پاتی الا یہ کہ شعوری کوشش کی جایئے۔ پہلی سطح میں آیات کو قواعد زبان کی روشنی میں سمجھنا ہوتا ہے یعنی

Under standing the text literally اس سے آگے بڑھ کر تمثیلی اندازمیں آیات کو سمجھا جائے تو انہیں نئے حالات پر منطبق کیا جاسکتا ہے۔ اس کو ہم اس طرح کہہ سکتے ہیں: Under standing the text allegonically پہلی سطح کی کوشش میں سطور کو سمجھنا ہوتا ہے جب کہ دوسری سطح کی کوشش میں بین السطور نکات کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔ (یعنی پہلی سطح میں Finding things in the language ہوتا ہے جب کہ دوسری سطح کی کوشش میں finding things beneath the surface of language ہوتا ہے) اس فرق کو سمجھنا فہم قرآن کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔

وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ الَّذِیَ آتَیْْنَاہُ آیَاتِنَا۔۔۔۔۔ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُون(سورہ اعراف آیت : 175-176)

ان آیتوں کو سمجھنے کا مروجہ طریقہ یہ ہے کہ اس میں جس شخص کے کردار کی تصویر کشی کی گئی ہے اسے تفاسیر کی مدد سے دریافت کیا جائے اور یہ دیکھا کہ اس بدبخت نے کیا گل کھلائے کہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس کی بری مثال قرآن میں پیش کردی اور کتے سے اس کی تشبیہ دی۔ جب اوراق تفسیر الٹتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا۔

بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا بلعم بن ہاعورا نامی اہل بلغا میں سے تھا اور وہ اسم اعظم جانتا تھا۔ یہودی علماء کے ساتھ بیت المقدس میں رہتا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ وہ اہل یمن میں سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی نشانیاں اور کرامتیں دی تھیں، لیکن اس نے ناقدری کی، وہ مستجاب الدعوات تھا۔ اس کی دعائیں قبول ہوجاتی تھیں۔ لوگ مصیبت کے وقت خدا سے دعا مانگنے کے لیے اس کو آگے بڑھاتے تھے۔ اللہ کے نبی حضرت موسیٰؑ نے اس کو تبلیغ دین کے لیے ملک مدین کی طرف بھیجا۔ یہاں کے بادشاہ نے اس کو اپنا لیا اور اس پر بہت سرفرازیاں کیں۔ چنانچہ اس نے بادشاہ کے دین کو قبول کرلیا اور دین موسی کو چھوڑ دیا۔ ۔۔۔پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔۔۔ اور وہ شیطان کا ہم کار ہوگیا۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ بلعام کی زبان بھی لٹک کر اس کے سینے میں آگری تھی۔۔۔ (تفسیر ابن کثیر 46-49جلد دوم)

یہ تفسیر میں قابل قدر ہے اس سے بھی آیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مگرمعلوم نہیں ہے کہ ان آیات میں کس بلعام بن ہاعورا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ کسی کی حس کچھ زیادہ تیز ہو تو اس واقعہ سے اپنے لیے بھی کچھ سامان عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ مگر قرآن سمجھنے کا ایک دوسرا انداز یہ ہے کہ بین السطور کچھ چیزیں دریافت کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی بلعام بن باعورا ہی کا نہیں بلکہ ہم میں سے ہر فرد کی یہ صورتحال ہوسکتی ہے اگر خدانخواستہ ہماری زندگی بھی شہوت شکم اور شہوت فرج ہی کے اطراف گھومتی رہے۔ دیکھئے مولانا مودودی نے کس خوبصورتی سے اس راز کو پالیا ہے، لکھتے ہیں:

’’کتے کی جبلت کیا ہے؟ حرص و آز، چلتے پھرتے اس کی ناک زمین سونگھنے ہی میں لگی رہتی ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے۔ اسے پتھرماریں تب بھی اس کی توقع دور نہیں ہوتی کہ شاید یہ چیز جو پھینکی گئی ہے کوئی ہڈی یا روٹی کا ٹکڑا ہو۔ پیٹ کا بندہ تو ایک دفعہ لپک کر اس کو بھی دانتوں سے پکڑ ہی لیتا ہے۔ اس سے بے اتفاقی کیجئے تب بھی وہ لالچ کا مارا ، توقعات کی ایک دنیا دل میں لئے ، زبان نکالے ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔

ساری دنیا کو وہ بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کہیں کوئی بڑی سی لاش پڑی ہو، جو کئی کتوں کے کھانے کو کافی ہو، تو ایک کتا اس میں سے صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا نہ کرے گا بلکہ اسے صرف اپنے ہی لیے مخصوص رکھنا چاہے گا اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس نہ بھٹکنے دے گا۔ اس شہوت شکم کے بعد اگر اس پر کوئی چیز غالب ہے تو وہ ہے شہوت فرج۔ اپنے سارے جسم میں صرف شرمگاہ ہی وہ چیز ہے جس سے وہ دلچسپی رکھتا ہے اور اس کو سونگھنے اور چاٹنے میں مشغول رہتا ہے۔ پس تشبیہ کا مدعا یہ ہے کہ دنیاپرست آدمی جب علم اور ایمان کی رسی توڑ کر بھاگتا ہے اور نفس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میںے اپنی باگیں دے دیتا ہے تو پھر کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا، ہمہ تن پیٹ اورہمہ تن شرمگاہ۔ (تفہیم القرآن صفحات: 101-102، جلد دوم)

قرآن فہم کی دوسری سطح جہاں قاری کچھ چیزوں کو دریافت کرے اور اسے اپنے ماحول، حالات اور مسائل پر منطبق کرسکے، اس پر پہنچنے کے لیے دو ذرائع ہیں۔ (۱) فہم قرآن کے اندرونی ذرائع (۲) قرآن کے بیرونی ذرائع۔

فہم قرآن کے اندرونی ذرائع

(1 پس منظر سے واقفیت سے آیات کا مفہوم متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مثلاً 59:7، 53:3-8، 4:15’16، 4:43 ان میں موخر الذکر آیت کو لیجئے جس میں کہا گیا کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نشے کی حالت میں نماز میں مصروف نہ ہو جب تک کہ تم یہ نہ جاننے لگو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ جب کہ سورہ مائدہ کی آیت 90 شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیتی ہے۔ پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت شراب سے قبل ، نشہ بحالت نماز ممنوع تھا، بقیہ اوقات میں ممنوع نہیں تھا۔ پس منظر سے عدم واقفیت کے نتیجے میں ایک عام آدمی قرآن میں بعض اوقات بادی النظر میں تضاد پائے گا۔

(2 مخاطب کو سمجھنا: بعض دفعہ بات مشرکین سے جاری ہے، اچانک روئے سخن نبی کی طرف مڑ جاتا ہے۔ بعض دفعہ بظاہر خطاب آپ سے ہوتا ہے مگر اصلاً سنانا مقصود ہوتا ہے، منافقین کو اس طرح مخاطبین کی تبدیلی کوملحوظ نہ رکھنے کے سبب کبھی پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ نبیؐ سے اتنی سخت بات کیوں کہی گئی حالانکہ وہ عتاب منافقین یا مشرکین پر ہوتا ہے مگر خدا ان سے اس وقت خطاب نہیں کرنا چاہتا۔ کبھی مخاطب بھی بدل جایا کرتے ہیں۔ کہیں اللہ کلام کر رہا ہوتا ہے، اچانک جبرئیل کی زبان سے کچھ بات ادا ہوتی ہے۔کبھی کسی کا قصہ سنایا جارہا ہوتا ہے، اچانک اللہ تعالیٰ اپنی کچھ بات وہاں موقع کی مناسبت سے عرض کردیتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنا مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

(3 محکمات اور متشابہات کا علم: ’محکمات وہ آیات ہیں جن کی زبان بالکل صاف ہے، جن کا مفہوم متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے، جن کے الفاظ معنی و مدعا پر صاف اور صریح دلالت کرتے ہیں‘‘۔ جب کہ متشابہات کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجائش ہے۔ جب کہ قرآن کو کسی بات میں شک، تردد، ابہام، انتباہ کی گنجائش ہی نہیں۔ ’’متشابہات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں ہمارے مشاہدات و معلومات کی دسترس سے باہر کی باتیں تمثیلی و تشبیہی رنگ میں قرآن نے بتائی ہیں۔ جیسے فرشتوں کے پر’ جہنم کی آگ، جنت کے باغات و انعامات، جان کنی کے وقت کی کیفیات وغیرہ۔

(4 ناسخ و منسوخ کا علم: قرآن کے بعض احکامات ابتدائی زمانہ میں کچھ تھے، جیسے جیسے سماج پختہ ہوتا گیا، انسانی عادت و اطوار انہی تعلیمات میں ڈھلتے چلے گئے۔ ویسے ویسے احکام کوبتدریج حتمی شکل دے دی گئی۔سورہ بقرہ آیت 180 میں بتایا گیا کہ مرنے والا اپنی جائیداد کے بارے میں وصیت کرجائے کہ کس کو کتنا ترکہ ملے۔ دھیرے دھیرے امت شریعت کی حامل بنتی چلی گئی تو سورہ نساء میں پہنچ کر آیا 11-13 بتادیا گیا کہ وراثت میں کس کا کتنا حصہ مقرر ہے۔ وصیت سے اسے آگے پیچھے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہاں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے والا اپنی مرضی سے وارثین کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے مال میں سے ایک تہائی کی وصیت کرسکتا ہے۔ اس طرح بقرہ آیت 180 کا حکم منسوخ ہے اور نساء کی آیات نے اس کی تجدید کردی۔ اس نکتے کو ملحوظ نہ رکھنے کی صورت میں ایک عام قاری کنفیوژن کا شکار ہوجائے گا کہ آخر کس حکم پر عمل ہو۔

(5 قرآن میں بے جا تکرار نہیں:

تکرار کلام کا ایک عیب ہے۔ قرآن ہر عیب سے پاک ہے۔ تکرار اظہار بیان کی عدم قدرت سے ہوتا ہے جب کہ خالق کائنات کے کلام میں عدم قدرت کا صدور نازیبا ہے۔ اس لیے قرآن کے سمجھنے میں یہ بات اہم ہے کہ قرآن میں بے جا تکرار نہیں ہے۔ جہاں تکرار نظر آتی ہو، وہاں دراصل ایک دوسرے پس منظر میں ایک دوسری بات عرض کرنے کے لیے بطور دلیل قصہ پرانا ہی دہرایا گیا ہوتا ہے، مگر اس واقعہ سے ایک نیا سبق استخراج کرنا مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً قصہ آدم و شیطان کی تکرار قرآن میں 7جگہ نظر آتی ہے۔ جب کہ ہر جگہ ایک ایک پس منظر میں ایک نئی بات عرض کرنے کے لیے بطور دلیل یہ قصہ سنایا گیا ہے۔

(6 اسالیب قرآن: ہر زبان کا اپنا ایک اسلوب ہوتا ہے۔ قرآن کا بھی ایک اسلوب ہے بلکہ اس کا اسلوب منفرداورنرالا ہے۔ ان اسالیب سے واقفیت فہم قرآن کی راہ کو آسان کرتی ہے۔ ان اسالیب سے ناواقفیت کی بنا پر معنی کچھ سے کچھ بن جاتے ہیں۔ بعض اسالیب جن سے واقفیت ضروری ہے (۱) قسمیں (۲) التفات (۳) تخلیص (۴) عود علی البدء) (۵) مشاکلت (۶) حذف (۷) جملہ معترضہ (۸) تجسیم (۹) تمثیل (۱۰) تشبیہہ (۱۱) صفت لف و نشر، (۱۲) صفت اخباک۔

(7 بعض اشارے:آدمی جب اپنے لیے کسی میدان کو چن لیتا ہے اور اس میں درک حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے اپنے کچھ خاص اشارے ہوتے ہیں جو حل مشکل کے Short art ہوتے ہیں۔ اس طرح قرآن کے سمجھنے میں بعض اشارے پاکر مضمون کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ مثلاً

(1 حروف مقطعات جن سورتوں کے آغاز میں بھی آتے ہیں ان میں قرآن کا چیلنج ضرور ہوگا۔ قرآن جیسا ایک کلام یا ایک ہی سورت لانے کا چیلنج ہوگا۔ یا یہ بات ہوگی کہ یہ قرآن، رسول اور یہ پیغام لازماً غالب ہوکر رہیں گے۔ یہ بھی ایک معنوں میں غلبہ قرآن کا چیلنج ہے۔ (2 حوامیم سورتیں 7 ہیں یہ آپس میں ہم آہنگ ہیں، مضامین ملتے جلتے ہیں۔ اسی طرح مستحبات ہیں، یہ 5ہیں۔ ان کے مضامین باہم دگر ملتے جلتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جن سورتوں کی شروعات ایک جیسی ہوں وہاں مضامین میں بھی اشتراک پایا جاتا ہے۔(3 جن آیتوں کا اختتام ’’لقوم یتفکرون، لعلکم یتفکرون، لقوم یعقلون‘‘،ان فی ذالک لآےۃ وغیرہ ٹکڑے آیت کی شروع یا اختتام میں پائے جائیں تو یہ اشارہ ہے کہ یہ آیت بڑے سائنٹفک حقائق کی حامل آیتیں ہیں۔ ان میں غور وفکر کی ہر زمانے میں گنجائش موجود ہے۔ ان کے نتیجے میں نئے نئے انکشافات ہوسکتے ہیں۔

(8 اعجاز قرآن:

قرآن نبی کا معجزہ ہے، وہ ہر پہلو سے معجزہ ہے۔ قرآن اپنے مسحور کن کلام سے معجزہ ہے تو انداز مجادلہ بھی چیلنج ہے۔ اپنے بیان میں بھی قرآن ایک معجزہ ہے۔ قرآن کا ایک ایک حرف، ایک ایک لفظ معجزہ ہے۔ ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً تقوی کے4 معنی ، ہدایت کے 4معنی مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے بیان کیے ہیں۔ رحمت کے 17معنی الاتقان میں بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مخصوص مقام پر مناسب معنی ہی لیے جائیں۔ دوسرا معنی لینے سے بات نہیں بنتی، مثلاً ہدایت کا عمومی مطلب لیا جاتا ہے ’’سیدھے رستے پر چلانا‘‘ مگر مومنین جب جنت پہنچ کر خدا کی حمد کریں گے تو کہیں گے ’’الحمدﷲ الذی ہدانا لہٰذا‘‘ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اپنے منزل پر پہنچایا۔ یہاں ہدایت کا مطلب سیدھی راہ چلانا نہیں بلکہ منزل پر پہنچانا ہی مناسب ہوگا۔ اس طرح قرآن بعض دفعہ دوالفاظ کا استعمال کرتا ہے۔ دونوں کا معنیٰ ایک ہوتا ہے مگر سیاق بتاتا ہے کہ دونوں الگ وجوہ سے مختلف جگہ لائے گئے ہیں۔ مثلاً انس؍ انسان، رویا، حلم، رؤیا؍ ریاح، زوج؍ امرأۃ، حلف، قسم وغیرہ۔ ایک عام آدمی انس اور انسان کو ایک ہی سمجھے مگر قرآن کا استعمال مختلف ہے۔ انس ہمیشہ جن کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے، ’’جن‘‘ خفاکے لیے استعمال ہوتا۔ جو چیز مخفی ہو اس سے وحشت ہوتی ہے، اس کے برعکس انسان ایک ظاہری وجود رکھتا ہے۔ اس سے وحشت کی کوئی وجہ نہیں بلکہ انسیت کا پہلو ہوتا ہے اسی لیے لفظ انس استعمال کیا گیا، مگر انسان وہاں استعمال کیا گیا ہے، جہاں بار امانت کے اٹھانے، مکلف ہونے کی اہلیت اور خیر و شر کی آزمائش میں جسے ڈالا گیا ہے اسے انسان کہا گیا ہے۔ اس طرح دیگرالفاظ کے سلسلے میں بھی قرآن کے استعمال کا ایک اعجاز ہے، اس کا علم آیات کو سمجھنے میں معاون ہوتا ہے۔

(9نظم قرآن:

قرآن کو سمجھنے میں نظم قرآن کی آگہی بڑی مددگار ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے استاد امام حمید الدین فراہیؒ کی اس فکر پر تفسیر لکھی ہے کہ قرآن ایک مربوط کلام ہے۔ ہر دو سورت آپس میں مربوط ہیں۔ ہر دو آیتوں کے درمیان بھی ایک نظم پایا جاتا ہے۔ نظم قرآن کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ کریں گے تو قرآن کا مشن دوبالا ہوجاتا ہے بلکہ صحیح معنوں میں قرآنی آیات کا مدعا ایک نئے انداز میں ہمارے سامنے آتا ہے۔

اس فکر کی روشنی میں قرآن ایک خوبصورت پارک کے مانند لگتا ہے۔ سورہ فاتحہ گویا گل سرسبد ہے۔ قرآن کے سہ گانہ مضامین کی حامل سورت ہے۔ سورہ بقرہ سے وہ مشن شروع ہوتا جس کے لیے آپؐ مبعوث ہوئے۔ سورہ نصر پرپہنچ کر وہ مشن کامیاب ہوجاتا ہے۔ کامیابی کااہم پہلو یہ ہے کہ باطل شکست کھا جائے اس لیے سورہ لہب، سورہ فجر کے بعد آتی ہے۔ باطل کی علامت، اس جمعیت قریش کا سردار ہلاک ہوتا ہے۔ اس کی ہلاکت اس کی ہلاکت و تباہی گویا باطل صفوں کی شکست و ریخت۔ پھر سورہ اخلاص توحید پر آخری عہد ہے۔ قرآن کے اختتام پر معوذتین رکھی گئی۔ یہ پہرہ دار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اندرون اوربیرون کے خطرات اور وسوسوں سے پناہ مانگنے کی تعلیم پر قرآن ختم ہوتا ہے۔ اس طرح استعانت باللہ سے قرآن شروع ہوکر استعاذ باللہ پر ختم ہوتا ہے۔

(10’’6ک‘‘

قرآن کو سمجھنے کے لیے 6ک‘‘ کا استعمال کریں۔ تب قرآن سے نئے مضامین اورنئے مفاہیم نکلتے ہیں۔ وہ اس طرح

(۱) کیا (۲)کیوں (۳) کب (۴) کیسے (۵) کہاں (۶) کون)

مفسرین کی توجہیات پر ان سوالات کو کھڑے کرنے کے بعد پڑھیں تو غور و فکر کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ سابقہ تعبیرات سے بہتر تعبیر سامنے آتی ہے۔ ان اصولوں کی روشنی میں مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کریں گے تو کچھ نئے اصولوں کا استخراج ہوگا۔

دعا کے آداب 19:1-15

دعوت کے آداب: 20:43-73

جنین کی ارتقائی مراحل: 72:

بچوں کی تربیت کے اصول: 31:12-9

مینجمنٹ کے اصول: 32:3-

فہم قرآن کے بیرونی ذرئع:

قرآن کو سمجھنے کے لیے ’’آیات کتاب‘‘ کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ ’’آیات کائنات‘‘ کا مطالعہ بھی انتہائی اہم ہے۔ قرآن کی آیتیں اس دنیا کے مسائل سے بحث کرتی ہیں۔ فرد کی نفسیات سے لے کر نظم کائنات تک سے قرآن بحث کرتا ہے۔ ان آیتوں کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل علوم کا مطالعہ ضروری ہے جس کے بغیر قرآن کے بہت سے مقامات کا صحیح مفہوم متعین نہیں ہوتا۔ اس پہلو سے نوجوانوں کو جو کالج سے تعلیم یافتہ ہیں کام کرنے کی ضرورت ہے، یہ پہلو ان کی قوت ہے۔ قرآن کے مطالعہ میں جدید علوم کو پیش نظر رکھیں۔ بیرونی ذرائع پر ایک الگ مضمون لکھنا ضروری ہوگا،جسے آئندہ میں ملاحظہ فرمائیں۔

ایس امین الحسن: رکن مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند

Related Post

One Comment on “فہم قرآن کے بعض اصول

  • Jazakallahu Khair. Very Helpful. It would be great if you put URL for “Beruni Zarai” in comment. So, one can continue ….

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *