تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانہ دعاؤں میں

.خوشی تو اس بات کی ضرور ہے کہ ہم نے استطاعت بهر رب رحیم و کریم کو راضی کر لینے کی کوشش کی اور وہ اتنا مہربان ہے کہ چھوٹی عبادات سے بھی بندوں کو نواز دیتا ہے

مگر شدید غم اس کا ہے کہ اخوانی اور تحریکی مجاہدین خون سے نہا کر سفاک اور ظالم درندہ صفت مغرب کے غلام حکمرانوں کے آگے سینہ سپر ہو کر ہم سب کی تن آسانی کے عوض میں فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں. سوچتا ہوں کہ ان کے لیے دعا کروں تو کیا کروں. ؟ عزیمت کی یا ہم جیسوں کی رخصت کی ، شہادت کی یا رہائی کی، اقتدار کی بحالی کی یا جنت کی قابل رشک بلندی کی ، مغرب کے مردہ ضمیر اور نام نہاد اداروں کی مداخلت کی ، یا ان کی ذلت و رسوائی میں اضافے کی ،؟؟؟
روءں تو کس پر ، شہادت پر یا ظالموں کا پیمانہ جرم لبریز ہونے پر ؟

اپنی روبایئ بر یا ان کی بے باکی پر؟ ثواب کے سکے سمیٹنے والے داناوءں پر یا جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق سنانے والے ” نادانوں ” پر ، ؟

ان کے لیے هماری کوئی بھی دعا ایسی لگتی ہے جو ان کی شان سے فروتر ہے اور بڑوں کو عید کی خوشی میں چاکلیٹ دینے کے مترادف ہے .تاہم ان کے لئے دعا کرکے ضمیر کی خلش کچھ دور ہوتی ہے. اور سر دست یہی ہم سے ممکن بھی ہے. مگر وہ جیالے ایمان ، زندگی اور بندگی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں.

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سوداے خام خون جگر کے بغیر

تاہم عید کی مبارکباد قبول کیجئے اور شیطان کو ہرگز یہ موقع فراہم نہ کریں کہ وہ ہمیں عظیم بابرکت مہینے کا اختتام مایوسی پر کراکر وہ خود رمضان المبارک کی بیڑیوں سے آزاد ہو. اس

سے کہیے

” نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا سنا ہے قدسیوں میں نے وہ شیر پهر ہوشیار هوگا”

ایس امین الحسن

 

 

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *